جمعہ، 12 ستمبر، 2025

آوازِ چناب: کیا عوام کی زبان کو قید کیا جا رہا ہے؟ وادیٔ چناب کے باسی آج جن مشکلات میں جی رہے ہیں، وہ کسی عام انسان کی زندگی نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ ضلع ڈوڈہ، کشتواڑ، بھلیسہ اور خاص طور پر بونجواہ کے عوام پچھلے ایک مہینے سے بُری طرح متاثر ہیں۔ نہ راشن کی فراہمی، نہ بجلی کی سہولت، نہ انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت—سب کچھ معطل ہے۔

 
 

وادیٔ چناب کے باسی آج جن مشکلات میں جی رہے ہیں، وہ کسی عام انسان کی زندگی نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ ضلع ڈوڈہ، کشتواڑ، بھلیسہ اور خاص طور پر بونجواہ کے عوام پچھلے ایک مہینے سے بُری طرح متاثر ہیں۔ نہ راشن کی فراہمی، نہ بجلی کی سہولت، نہ انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورتسب کچھ معطل ہے۔



ہسپتالوں کی حالت 

یہاں کے ہسپتالوں کی حالت بہت ہی خستہ ہے۔ مریض دوائیوں اور سہولیات کے بغیر تڑپ رہے ہیں۔ علاج معالجہ کے لیے لوگ سینکڑوں کلو میٹر دور جانے پر مجبور ہیں۔ کیا یہی انصاف ہے کہ عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھا جائے؟





سکولوں کی حالت 

تعلیم وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو ختم کرتی ہے، مگر یہاں کے سکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ٹوٹی عمارتیں، ناکافی اساتذہ اور سہولتوں کا فقدانیہ نسلِ نو کے ساتھ ایک کھلی ناانصافی ہے۔




سڑکوں کی حالت

 

یہاں کے روڈوں کی حالت نہایت ہی غمبیر ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، بارشوں نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ کوئی بھی دن دہاڑے آسانی سے سفر نہیں کر سکتا۔ حادثات معمول بن چکے ہیں، مگر حکومت کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔




عوام کی آواز دبانے کی کوشش

اور جب ان سب مظالم کے خلاف ایک نمائندہ، مہراج ملک، عوام کی آواز بن کر سامنے آیا تو اُسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ کیا عوامی 

نمائندے کا قصور صرف یہ تھا کہ اُس نے اپنے لوگوں کے 

لیے انصاف مانگا؟

کیا جمہوریت میں آواز بلند کرنا جرم ہے؟









عوام کے لیے پیغام 

اے وادیٔ چناب کے لوگوں!

یاد رکھو، یہ مشکلات آپ کی کمزوری نہیں بلکہ آپ کی طاقت ہیں۔ آپ کی یکجہتی، آپ کی ہمت اور آپ کی صبر آزمای جدوجہد ایک دن ان اندھیروں کو روشنی میں بدل دے گی۔


حکومت سے سوال 

کیا یہ انصاف ہے کہ عوام کو علاج، تعلیم اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جائے؟ 

کیا یہ جمہوریت ہے کہ عوامی نمائندے کو جیل میں ڈال کر عوامی آواز کو دبایا جائے؟

کب تک چناب کے لوگ اس بے حسی کا شکار رہیں گے؟


یہ تحریر ایک پکار ہے، ایک فریاد ہے اور ایک عزم بھی ہے:

"ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے، پرامن طریقے سے مگر مضبوطی کے ساتھ۔ ہماری آواز دبائی جا سکتی ہے مگر ختم نہیں کی جا سکتی۔"



جمعرات، 11 ستمبر، 2025

وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں انٹرنیٹ بند، عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش




وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں انٹرنیٹ بند، عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ 

وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں ایک بار پھر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو اچانک بند کر دیا گیا ہے۔ جیو اور آئیٹل سمیت
 بیشتر نیٹ ورکس ڈاؤن ہیں، کارل لگانا ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہراج ملک (ایم ایل اے) کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ عوام کی آواز کو دبانے اور سچ کو چھپانے کے لیے ہی یہ پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

 عوام کو سزا کیوں؟

کیا عوام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ وادی میں رہتے ہیں؟ تعلیم، روزگار، صحت اور رابطے کا بنیادی حق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے؟ 

ایک طرف حکومت آزادی اور جمہوریت کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف شہریوں کو قید خانوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مہراج ملک کی گرفتاری اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن مہراج ملک جیسے عوامی نمائندے کو جیل میں ڈالنا اور ساتھ ہی پوری وادی کو اندھیروں میں دھکیل دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں سچ بولنے اور عوامی مسائل اٹھانے والوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔ 

یہ کیسا انصاف ہے کہ جو اپنی عوام کی بات کرے، وہ قید میں ڈال دیا جائے، اور جو عوام اپنی آواز بلند کرے، ان کے رابطے کاٹ دیے جائیں؟

 احتجاجی سوال یہ انصاف ہے یا ناانصافی؟

 یہ جمہوریت ہے یا آمرانہ رویہ؟

 اگر ایک علاقے کے لوگوں سے بار بار ان کا حقِ اظہار اور حقِ رابطہ چھینا جائے تو آخر کب تک یہ ظلم سہنا پڑے گا؟

  وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ کی آواز کبھی نہیں دبائی جا سکتی۔ مہراج ملک کو جیل میں ڈال کر اور انٹرنیٹ بند کر کے عوام کو خاموش کرانے کی کوششیں وقتی ہو سکتی ہیں، لیکن یہ سچ کو روکنے کا مستقل حل نہیں۔ وادی کے لوگ انصاف مانگتے ہیں، اور یہ انصاف دیر سویر مل کر رہے گا۔