وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں انٹرنیٹ بند، عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش
وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں ایک بار پھر
انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو اچانک بند کر دیا گیا ہے۔ جیو اور آئیٹل سمیت
بیشتر
نیٹ ورکس ڈاؤن ہیں، کارل لگانا ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا گیا
ہے جب مہراج ملک (ایم ایل اے) کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ عوام کی
آواز کو دبانے اور سچ کو چھپانے کے لیے ہی یہ پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
عوام کو
سزا کیوں؟
کیا عوام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ وادی میں رہتے ہیں؟ تعلیم، روزگار، صحت
اور رابطے کا بنیادی حق چھین لینا کہاں کا انصاف ہے؟
ایک طرف حکومت آزادی اور
جمہوریت کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف شہریوں کو قید خانوں جیسی زندگی گزارنے پر
مجبور کر دیتی ہے۔ مہراج ملک کی گرفتاری اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن مہراج ملک جیسے عوامی
نمائندے کو جیل میں ڈالنا اور ساتھ ہی پوری وادی کو اندھیروں میں دھکیل دینا اس بات
کا ثبوت ہے کہ یہاں سچ بولنے اور عوامی مسائل اٹھانے والوں کو خاموش کرایا جا رہا
ہے۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ جو اپنی عوام کی بات کرے، وہ قید میں ڈال دیا جائے، اور جو
عوام اپنی آواز بلند کرے، ان کے رابطے کاٹ دیے جائیں؟
احتجاجی سوال یہ انصاف ہے یا
ناانصافی؟
یہ جمہوریت ہے یا آمرانہ رویہ؟
اگر ایک علاقے کے لوگوں سے بار بار ان کا
حقِ اظہار اور حقِ رابطہ چھینا جائے تو آخر کب تک یہ ظلم سہنا پڑے گا؟
وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ کی
آواز کبھی نہیں دبائی جا سکتی۔ مہراج ملک کو جیل میں ڈال کر اور انٹرنیٹ بند کر کے
عوام کو خاموش کرانے کی کوششیں وقتی ہو سکتی ہیں، لیکن یہ سچ کو روکنے کا مستقل حل
نہیں۔ وادی کے لوگ انصاف مانگتے ہیں، اور یہ انصاف دیر سویر مل کر رہے گا۔
.jpg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں