آوازِ چناب: کیا عوام کی زبان کو قید کیا جا رہا ہے؟ وادیٔ چناب کے باسی آج جن مشکلات میں جی رہے ہیں، وہ کسی عام انسان کی زندگی نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ ضلع ڈوڈہ، کشتواڑ، بھلیسہ اور خاص طور پر بونجواہ کے عوام پچھلے ایک مہینے سے بُری طرح متاثر ہیں۔ نہ راشن کی فراہمی، نہ بجلی کی سہولت، نہ انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت—سب کچھ معطل ہے۔

 
 

وادیٔ چناب کے باسی آج جن مشکلات میں جی رہے ہیں، وہ کسی عام انسان کی زندگی نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ ضلع ڈوڈہ، کشتواڑ، بھلیسہ اور خاص طور پر بونجواہ کے عوام پچھلے ایک مہینے سے بُری طرح متاثر ہیں۔ نہ راشن کی فراہمی، نہ بجلی کی سہولت، نہ انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورتسب کچھ معطل ہے۔



ہسپتالوں کی حالت 

یہاں کے ہسپتالوں کی حالت بہت ہی خستہ ہے۔ مریض دوائیوں اور سہولیات کے بغیر تڑپ رہے ہیں۔ علاج معالجہ کے لیے لوگ سینکڑوں کلو میٹر دور جانے پر مجبور ہیں۔ کیا یہی انصاف ہے کہ عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھا جائے؟





سکولوں کی حالت 

تعلیم وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو ختم کرتی ہے، مگر یہاں کے سکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ٹوٹی عمارتیں، ناکافی اساتذہ اور سہولتوں کا فقدانیہ نسلِ نو کے ساتھ ایک کھلی ناانصافی ہے۔




سڑکوں کی حالت

 

یہاں کے روڈوں کی حالت نہایت ہی غمبیر ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، بارشوں نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ کوئی بھی دن دہاڑے آسانی سے سفر نہیں کر سکتا۔ حادثات معمول بن چکے ہیں، مگر حکومت کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔




عوام کی آواز دبانے کی کوشش

اور جب ان سب مظالم کے خلاف ایک نمائندہ، مہراج ملک، عوام کی آواز بن کر سامنے آیا تو اُسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ کیا عوامی 

نمائندے کا قصور صرف یہ تھا کہ اُس نے اپنے لوگوں کے 

لیے انصاف مانگا؟

کیا جمہوریت میں آواز بلند کرنا جرم ہے؟









عوام کے لیے پیغام 

اے وادیٔ چناب کے لوگوں!

یاد رکھو، یہ مشکلات آپ کی کمزوری نہیں بلکہ آپ کی طاقت ہیں۔ آپ کی یکجہتی، آپ کی ہمت اور آپ کی صبر آزمای جدوجہد ایک دن ان اندھیروں کو روشنی میں بدل دے گی۔


حکومت سے سوال 

کیا یہ انصاف ہے کہ عوام کو علاج، تعلیم اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جائے؟ 

کیا یہ جمہوریت ہے کہ عوامی نمائندے کو جیل میں ڈال کر عوامی آواز کو دبایا جائے؟

کب تک چناب کے لوگ اس بے حسی کا شکار رہیں گے؟


یہ تحریر ایک پکار ہے، ایک فریاد ہے اور ایک عزم بھی ہے:

"ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے، پرامن طریقے سے مگر مضبوطی کے ساتھ۔ ہماری آواز دبائی جا سکتی ہے مگر ختم نہیں کی جا سکتی۔"



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وادی چناب ضلع ڈوڈہ کشتواڑ میں انٹرنیٹ بند، عوام کی آواز دبانے کی مذموم کوشش

RDD Block Bunjwah remains closed during office hours, Whole nexus is running from AC rooms Kishtwar